جواب

حامداومصلیاومسلما
سر کے بال کاٹنے میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورے سر کے بال ایک جیسے کاٹے جائے
ایک حصے کے بال کاٹ دۓ اور ایک حصے کے باقی رکھے یہ طریقہ ناجائز ہے
مغربی تہذیب کے دلدادہ لوگوں میں ایسے بہت سے طریقے رائج ہیں مثلا Screw cut….
Buzz cut… Under cut
وغیرہ یہ سارے طریقے ناجائز ہے

یا تو سارے بال یکساں کٹواۓ یا بالکل حلق کرواۓ

خواتین کے لیے بالوں کا کٹوانا بالکل جائز نہیں چاہے شوہر اسکا حکم کیوں نہ کرے
البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے کٹوانے پڑے تو کوئ حرج نہیں
یا حج و عمرہ کے اختتام پر ایک محدود مقدار کا کاٹنا ہو…..

 مفتی بندہ الہی قریشی
خادم قرآن مدرسہ مدینة العلم گندیوی

 قطعت شعر راسھا اثمت و لعنت زاد فی البزازیة وان کان باذن الزوج لانہ لا طاعت لمخلوق فی معصیت الخالق.. الخ ( رد المختار ۶/۴۰۷ باب النظر والاباحة ) البحر الرائق کتاب الکراھیة ۸/۳۷۵

واللہ اعلم بالصواب

 

جواب

والدین سے زیادہ مہربان اور خیرخواہ کوئی ہو نہیں سکتا ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ اس بارے میں ماں باپ کی بات مان لی جائے ، اسی میں عافیت (دنیا آخرت کی بھلائی) ہے۔

درسی سوال۔ جواب صفحہ ۲۴۶

واللہ اعلم باالصواب

ہجری تاریخ

۹/ ربیع الاول ۱۴۴۱ ہجری۔

مفتی عمران اسماعیل میمن
استاد دارالعلوم رام پورہ سورت ، گجرات ، ہندوستان۔

 

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

ویلنٹائن ڈے منانا غیر اسلامی ہے,غیر مسلم کے تہوار صحیح مان کر یا تعظیم کے ارادے سے منانا اور ان کے طریقے اپنانا کفر ہے,

کئی بار شیطان مسلمانوں کو نفس کے ذریعے بہکاتا ہے اور ہمیں لگتا ہے غیرمسلموں کے تہوار و طریقہ اچھا ہے,

آج کے دور میں غیروں کے ساتھ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں اور وش کرتے ہیں ہاتھ ملاتے ہیں اور گلے ملتے ہیں اور روس چوکلیٹ کارڈ گفٹ دیتے ہیں

یہ سب بے حیائی کے کام ہیں اور گناہ کبیرہ ہے,اور گفٹ وغیرہ دینے میں مال ضائع کرنا ہے اور فضول خرچی کرنا بھی گناہ ہے,

اور کسی کو شہوت سے دیکھنا چھونا یا اس بارے میں بات کرنا یہ سب بے حیائی اور بد نگاہی اور اعضاء کا زنا و بدفعلی کا گناہ ہے,

اور کچھ لوگ تو زنا حرام عمل بھی کرتے ہیں کسی سے بغیر نکاح کے صحبت کرنا زنا بد فعلی اور گناہ کبیرہ ہے,

اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں اسلامی طریقہ اپنانا ہے یا غیروں کا؟

پیارے آقا سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے امتیوں غیروں کے تہوار و طریقے کتنے بھی اچھے لگے لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب کا صحیح طریقہ اپنانا چاہیے

اور ان سب گناہوں سے بچنا چاہیے تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو,

آپ لوگ یہ سب باتیں اپنے دوستوں کو بتا کر انہیں بھی ان بے حیائی عیاشی اور فضول خرچی اور گناہوں والے تہوار منانے سے دور رہنے کے لیے سمجھائیں,

کسی کو نیک عمل کرنے کے لئے کہنا یا کسی گناہ سے بچنے کے لئے کہنا ایمانی فریضہ اور بہت بڑی نیکی ہے,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

٥۔۔۔۔۔جمادی الاَخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

١٤ فروری کو لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو روز چاکلیٹس گفٹ وغیرہ اور بہت سارے ہدیہ وغیرہ دیتے ہیں ایک دوسرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور گلے لگ کر اپنی خوشی اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں اور بھی بہت سارے بے حیائی اور فحاشی کے کام کرتے ہیں شرعاً اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

ویلنٹائنز ڈے منانا غیر اسلامی ہے قرآن مجید کی روشنی میں اس کا حکم جان لینا چاہیے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے

ولاترکنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار

اور تم ان لوگوں کی طرف میلان اختیار مت کرو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی جہنم کے مستحق بن جاؤ,

اس میں قابل غور یہ ہے کہ آج امت مسلمہ ان کے رنگ میں رنگی جا رہی ہے اگرچہ وہ شرعی اعتبار سے ناجائز اور حرام ہی کیوں نہ ہو لیکن ہمارے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کو اس کا ہوش نہیں ہے,

سکول اور کالجز میں ہر سال ١٤ فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے نام سے جشن منایا جاتا ہے جس میں اسٹوڈینٹس آپس میں ایک دوسرے کو گلاب کا پھول وغیرہ پیش کر کے محبت کا اظہار کرتے ہیں,یہ ویلنٹائن ڈےمنانا شرعا ناجائز و حرام ہے,

یہ ویلنٹائنس ڈے اس وجہ سے بھی منع ہے کہ اس موقع پر طرح طرح کے غیرشرعی اور حرام و ناجائز امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے, بدنظری بے, پردگی, فہاشی, و بے حیائی اجنبی لڑکے لڑکیوں کا آپس میں اختلاط ہنسی مذاق بوس و کنار نیز ناجائز و حرام تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کو تحفے تحائف کا لین دین اس کے نتائج میں زنا کا پیش آنا یا اسباب زنا کا وجود ہوتا ہے,

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم قال:أن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس أمرأة لا تحل له (الطبرانی فی الکبیر ٢١٢/٢۰)

تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کے سوئے گھوپ دیے جائیں تو یہ اس کے لیے بہتر ہے بنسبت اسکے کے وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں,

ان تمام امور کی وجہ سے اس تہوار یا اس دن کو منانا تو دور ایک غیرت مند مسلمان مومن مرد عورت کے لیے تصور کرنا بھی مشکل ہونا چاہیے اور ان تمام امور کے ناجائز و حرام ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی سراج الحق سعادتی میواتی دامت برکتہم

خادم جامعہ سعادت دارین میولی نوح میوات ہریانہ ٧۹۸۸٧۹١٣٦٦

تصدیق و تشہیل مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

٦۔۔۔۔۔جمادی الاَخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

: جواب 

پتنگ اڑانے کے بہت ہی زیادہ دنیاوی اور اخروی نقصانات ہے جس کی وجہ سے اسکا اڑانا نا جائز ہے 

پتنگ اڑانے کے ۲۴ نقصانات مندرجہ ذیل ہے 

۱….. فضول خرچی.. مال اور صلاحیت کا برباد کرنا 

۲….. پتنگ کی طرف نظر ہونے کی وجہ سے نیچے گر کر مر جانے یا زخمی ہو جانے کا خطرہ 

۳….. راستے سے گزرنے والے کتنے ہی بے قصور انسانوں کے گلے کٹے جسکی وجہ سے وہ مر گئے یا شدید زخمی ہوے

۴….. زخمی ہونے والے مظلوموں کی بددعا لگنا یا مرنے والوں کی بیواؤں اور انکے یتیم بچوں کی بددعا لگنا 

۵….. کتنے ہی معصوم پرندے اسکی ڈوری سے کٹ کر مر جاتے ہیں 

۶….. پتنگ اکثر ٹیرس اور چھت پر چڈھ کر اڑائ جاتی ہے جسکی وجہ سے آس پاس کے گھروں کی بیپردگی اور بد نظری ہوتی ہے 

۷….. شریف باپردہ عورتوں کو کپڑے سکھانے میں اور کھڑکی دروازہ کھولنے میں دشواری ہوتی ہے 

۸…. روڈ پر پتنگ لوٹنے والوں کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے 

۹….. گاڑی چلانے والے بھی بعض مرتبہ اس کی وجہ سے گاڑی کے ساتھ گر کر زخمی ہوتے ہیں یا انکی گاڑی کا نقصان ہوتا ہے 

۱۰….. گاڑی چلانے والوں کے درمیان اچانک ڈوری آنے کی وجہ سے ہر وقت ڈر کی وجہ سے اور ان لوٹنے والوں کی وجہ سے گاڑی چلانے میں تکلیف ہوتی ہے 

۱۱….. مسجد کی جماعت بلکہ خود جماعت سے غافل ہو جاتا ہے 

۱۲….. پورا دن پتنگ اڑانے میں گذارنے کی وجہ سے بڑوں کی دکان اور نوکروں کا حرج اور بچوں کے مدرسوں اور اسکول کی پڑھائی کا نقصان 

۱۳….. ہر ایک کی نیت دوسرے کی پتنگ کاٹنے کی ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچانے کا گناہ 

۱۴….. جس کی پتنگ کٹ گئی انکے دل میں عداوت اور کینہ اور اسکا پتنگ کاٹ کر بدلہ لینے کے جزبات کا پیدہ ہو جانا

۱۵….. شوروغل سیٹیاں اور ڈی جے کی وجہ سے آرام کرنے والے. بیمار. بوڑھے اور قیلولہ کرنے والے نیک بندوں کی نیند میں خلل پہنچانا 

۱۶….. میوزک اور گانا سننے اور نہ سننا چاہنے والوں کو سنانے کا گناہ ہونا

۱۷….. نماز کے وقت میں زور سے ڈی جے بجانے کی وجہ سے امام کی قرات اور مصلیوں کی نماز میں خلل واقع ہونا

۱۸….. کئ دن تک دھوپ میں پتنگ اڑانے کی وجہ سے جسمانی رنگ اور آنکھوں کی روشنی پر اثر پڑنا 

۱۹….. غیروں کی مشابھت ہونے کی وجہ سے قیامت کے دن انہی کے ساتھ حشر ہونا اور انہی میں سے شمار ہونا

۲۰….. پتنگ لوٹنے کا گناہ 

۲۱….. اسکی ڈوری توڑ کر چرانے کا گناہ 

۲۲.. ایسے فضول کام جس ميں دنیا و آخرت کا کوئ نفع نہیں قیمتی وقت ضائع کرنا 

۲۳….. غیروں کے اس تہوار کو اچھا سمجھنے اور ان گناہوں پر خوش ہونے کی وجہ سے ایمان کے برباد ہوجانے اور کافر ہو جانے کا خطرہ

۲۴….. موت کا کوئ وقت متعین نہیں غیروں کا تہوار اور ان کے تمام گناہوں کو کرتے کرتے اچانک موت آگی تو خاتمہ برا ہو جانا 

  

*اس میسج کو خوب فارورڈ کرے اپنے گھر والوں کو سناے اور پتنگ کی لعنت سے خود بچیں اپنے بچوں کو خاص بچایں بچپن ہی سے اسسے نفرت دلاے,,*  

واللہ اعلم بالصواب 

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی 

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند 

 کلینڈر 

۲۔۔۔۔۔جمادی الاول 

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

لواطت‘(یعنی پیچھے کی راہ میں خواہش پوری کرنا) اسلام کی نظر میں کیسا ہے؟ دونوں کی آپس میں رضا مندی ہو؟ تو جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس پر کیا سزا اسلامی حکومت میں دینے چاہیے؟

:جواب:  حامدا و مصلیا و مسلما

دین اسلام میں “لواطت” کو انتہائی ناپسندیدہ اور بہت ہی برا اور سخت حرام کام سمجھا ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوطی کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں فرمایا ہے، ایک حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کسی کو قوم لوط کا عمل کرتے پاؤں فاعل اور مفعول (کرنے والے اور کرانے والے) دونوں کو قتل کر دو،

ترمذی شریف

اس حدیث کی بنیاد پر فقہاء کرام کا اکتفاء ہے کے دونوں کو قتل کر دیا جائے لیکن کس طرح قتل کیا جائے اس کے طریقے میں چند قول ہے،

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہے کہ زنا کی سزا شریعت میں متعین ہے لیکن لوطی کی سزا متعین نہیں اس لیے زیادہ سخت اور بہت ہی درد ناک سزا دی جائے چاہے پہاڑ سے نیچے پھینک دیا جائے چاہے ہاتھی کی نیچے ڈال کر کچلوا دیا جائے چاہے زندہ جلا دیا جائے،

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علیؓ کے مشورے سے ایک لوطی کو آگ میں زندہ جلانے کا حکم دیا تھا اور خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ نے سزا جاری کی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے کہ لوطی کی سزا زنا سے سخت ہونی چاہیے،

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی دوسری جماعت کا یے قول ہے کہ جو سزا زنا کی ہے وہ ہی لوطی کی ہونی چاہیے یعنی غیر شادی شدہ ہے تو سب کے سامنے ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں اور شادی شدہ ہے تو سب کے سامنے پتھر مار مار کے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے،

معلوم ہوا کہ “لواطت” کا گناہ قتل سے بھی سخت ہے کیوں کہ قاتل کی سزا اسے قتل کرنا ہے لیکن مقتول قاتل کو بچا سکتا ہے ۱۰۰ اونٹ کی قیمت پر صلح کر سکتا ہے لیکن، لوطی کی بچنے کی کوئی صورت نہیں،

حیاء اور پاک دامنی صفہ ۲۵۱

تنبیہ: اس وقت یہ مرض لوگوں میں شدت سے پھیل رہا ہے کوئی تو خاص اصل گناہ ہی میں مبتلا ہے اور کوئی اس کے مقدمات میں یعنی اجنبی لڑکے یا اجنبی عورت پر (شہوت کے ساتھ) نظر کرنا۔

 حدیثِ پاک میں ہے:  اللسان یزنی وزناہ النطق والقلب یتمنی و یشتھی

اس میں ہاتھ لگانا‘ بری نگاہ سے دیکھنا سب داخل ہو گئے‘ یہاں تک کہ جی خوش کرنے کے لئے حسین لڑکے یا لڑکی سے باتیں کرنا یہ بھی زنا و “لواطت” میں داخل ہے‘ اور دل کا زنا سوچنا ہے‘ جس سے لذت حاصل ہو‘ تو جیسے زنا میں تفصیل ہے ایسے ہی “لواطت” میں بھی ہے۔

(دعوات عبدیت وعظ الاتعاظ بالغیر صفحہ ۱۱۸ جلد ۹)

 اسلامی شادی

واللہ اعلم بالصواب

 مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند