جواب

حامدا ومصلیا ومسلما

علامہ قطب الدین دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافع المومنین میں لکھا ہے کہ ایک قوم کی تاہم رسم ہے کی تھوڑی سی سرسوں اور اسپند ( ایک قسم کا بیچ ) کپڑے میں باندھتے ہیں اس کو کنگنا کہتے ہیں اس کو دولہے کے ہاتھ میں باندھتے ہیں یہ صاف بات ہے کہ اس کو پہننا والا اور اس کو پسند کرنے والا کافر ہوجاتا ہے،

تحفۃ الزوجین صفحہ- ۲۳

اس کتاب کے حاشیہ میں لکھا گیا ہے کہ یہ کُفر کے شعار ( خاص نشانی) میں سے ہے جیسے کے ہندوؤں کی زنّار (جنوی) ہوتی ہے ہندوؤں سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اسکا حکم اُنکے شاشترا (مذہبی کتابخانہ میں ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ بعض صورت میں شادی کے سات پہروں قائم مقام ہے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کی گنتی انہیں کے ساتھ ہوگی لہٰذا جہاں یہ رسم پائی جارہی ہے اسے ختم کرنا بہت ضروری ہے،

 بہشتی جہیز صفحہ ۷۵ سے ماخوذ

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمادی الاول

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

کیا ہپئی نیو ائیر, نئے سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟ اس میں غیروں کی مشابہت تو نہیں؟

 جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

ہیپی نیوایئر کہنے میں یہود ونصاریٰ وغیرہ قوم سے مشابہت ہے, لہذا ناجائز ہے,

کتاب الفتاوی ٦/١۲٥ سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمادی الاول

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

ویلنٹائن ڈے منانا غیر اسلامی ہے,غیر مسلم کے تہوار صحیح مان کر یا تعظیم کے ارادے سے منانا اور ان کے طریقے اپنانا کفر ہے,

کئی بار شیطان مسلمانوں کو نفس کے ذریعے بہکاتا ہے اور ہمیں لگتا ہے غیرمسلموں کے تہوار و طریقہ اچھا ہے,

آج کے دور میں غیروں کے ساتھ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں اور وش کرتے ہیں ہاتھ ملاتے ہیں اور گلے ملتے ہیں اور روس چوکلیٹ کارڈ گفٹ دیتے ہیں

یہ سب بے حیائی کے کام ہیں اور گناہ کبیرہ ہے,اور گفٹ وغیرہ دینے میں مال ضائع کرنا ہے اور فضول خرچی کرنا بھی گناہ ہے,

اور کسی کو شہوت سے دیکھنا چھونا یا اس بارے میں بات کرنا یہ سب بے حیائی اور بد نگاہی اور اعضاء کا زنا و بدفعلی کا گناہ ہے,

اور کچھ لوگ تو زنا حرام عمل بھی کرتے ہیں کسی سے بغیر نکاح کے صحبت کرنا زنا بد فعلی اور گناہ کبیرہ ہے,

اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں اسلامی طریقہ اپنانا ہے یا غیروں کا؟

پیارے آقا سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے امتیوں غیروں کے تہوار و طریقے کتنے بھی اچھے لگے لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب کا صحیح طریقہ اپنانا چاہیے

اور ان سب گناہوں سے بچنا چاہیے تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو,

آپ لوگ یہ سب باتیں اپنے دوستوں کو بتا کر انہیں بھی ان بے حیائی عیاشی اور فضول خرچی اور گناہوں والے تہوار منانے سے دور رہنے کے لیے سمجھائیں,

کسی کو نیک عمل کرنے کے لئے کہنا یا کسی گناہ سے بچنے کے لئے کہنا ایمانی فریضہ اور بہت بڑی نیکی ہے,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

٥۔۔۔۔۔جمادی الاَخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

١٤ فروری کو لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو روز چاکلیٹس گفٹ وغیرہ اور بہت سارے ہدیہ وغیرہ دیتے ہیں ایک دوسرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور گلے لگ کر اپنی خوشی اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں اور بھی بہت سارے بے حیائی اور فحاشی کے کام کرتے ہیں شرعاً اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

ویلنٹائنز ڈے منانا غیر اسلامی ہے قرآن مجید کی روشنی میں اس کا حکم جان لینا چاہیے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے

ولاترکنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار

اور تم ان لوگوں کی طرف میلان اختیار مت کرو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی جہنم کے مستحق بن جاؤ,

اس میں قابل غور یہ ہے کہ آج امت مسلمہ ان کے رنگ میں رنگی جا رہی ہے اگرچہ وہ شرعی اعتبار سے ناجائز اور حرام ہی کیوں نہ ہو لیکن ہمارے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کو اس کا ہوش نہیں ہے,

سکول اور کالجز میں ہر سال ١٤ فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے نام سے جشن منایا جاتا ہے جس میں اسٹوڈینٹس آپس میں ایک دوسرے کو گلاب کا پھول وغیرہ پیش کر کے محبت کا اظہار کرتے ہیں,یہ ویلنٹائن ڈےمنانا شرعا ناجائز و حرام ہے,

یہ ویلنٹائنس ڈے اس وجہ سے بھی منع ہے کہ اس موقع پر طرح طرح کے غیرشرعی اور حرام و ناجائز امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے, بدنظری بے, پردگی, فہاشی, و بے حیائی اجنبی لڑکے لڑکیوں کا آپس میں اختلاط ہنسی مذاق بوس و کنار نیز ناجائز و حرام تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کو تحفے تحائف کا لین دین اس کے نتائج میں زنا کا پیش آنا یا اسباب زنا کا وجود ہوتا ہے,

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم قال:أن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس أمرأة لا تحل له (الطبرانی فی الکبیر ٢١٢/٢۰)

تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کے سوئے گھوپ دیے جائیں تو یہ اس کے لیے بہتر ہے بنسبت اسکے کے وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں,

ان تمام امور کی وجہ سے اس تہوار یا اس دن کو منانا تو دور ایک غیرت مند مسلمان مومن مرد عورت کے لیے تصور کرنا بھی مشکل ہونا چاہیے اور ان تمام امور کے ناجائز و حرام ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی سراج الحق سعادتی میواتی دامت برکتہم

خادم جامعہ سعادت دارین میولی نوح میوات ہریانہ ٧۹۸۸٧۹١٣٦٦

تصدیق و تشہیل مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

٦۔۔۔۔۔جمادی الاَخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

: جواب 

پتنگ اڑانے کے بہت ہی زیادہ دنیاوی اور اخروی نقصانات ہے جس کی وجہ سے اسکا اڑانا نا جائز ہے 

پتنگ اڑانے کے ۲۴ نقصانات مندرجہ ذیل ہے 

۱….. فضول خرچی.. مال اور صلاحیت کا برباد کرنا 

۲….. پتنگ کی طرف نظر ہونے کی وجہ سے نیچے گر کر مر جانے یا زخمی ہو جانے کا خطرہ 

۳….. راستے سے گزرنے والے کتنے ہی بے قصور انسانوں کے گلے کٹے جسکی وجہ سے وہ مر گئے یا شدید زخمی ہوے

۴….. زخمی ہونے والے مظلوموں کی بددعا لگنا یا مرنے والوں کی بیواؤں اور انکے یتیم بچوں کی بددعا لگنا 

۵….. کتنے ہی معصوم پرندے اسکی ڈوری سے کٹ کر مر جاتے ہیں 

۶….. پتنگ اکثر ٹیرس اور چھت پر چڈھ کر اڑائ جاتی ہے جسکی وجہ سے آس پاس کے گھروں کی بیپردگی اور بد نظری ہوتی ہے 

۷….. شریف باپردہ عورتوں کو کپڑے سکھانے میں اور کھڑکی دروازہ کھولنے میں دشواری ہوتی ہے 

۸…. روڈ پر پتنگ لوٹنے والوں کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے 

۹….. گاڑی چلانے والے بھی بعض مرتبہ اس کی وجہ سے گاڑی کے ساتھ گر کر زخمی ہوتے ہیں یا انکی گاڑی کا نقصان ہوتا ہے 

۱۰….. گاڑی چلانے والوں کے درمیان اچانک ڈوری آنے کی وجہ سے ہر وقت ڈر کی وجہ سے اور ان لوٹنے والوں کی وجہ سے گاڑی چلانے میں تکلیف ہوتی ہے 

۱۱….. مسجد کی جماعت بلکہ خود جماعت سے غافل ہو جاتا ہے 

۱۲….. پورا دن پتنگ اڑانے میں گذارنے کی وجہ سے بڑوں کی دکان اور نوکروں کا حرج اور بچوں کے مدرسوں اور اسکول کی پڑھائی کا نقصان 

۱۳….. ہر ایک کی نیت دوسرے کی پتنگ کاٹنے کی ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچانے کا گناہ 

۱۴….. جس کی پتنگ کٹ گئی انکے دل میں عداوت اور کینہ اور اسکا پتنگ کاٹ کر بدلہ لینے کے جزبات کا پیدہ ہو جانا

۱۵….. شوروغل سیٹیاں اور ڈی جے کی وجہ سے آرام کرنے والے. بیمار. بوڑھے اور قیلولہ کرنے والے نیک بندوں کی نیند میں خلل پہنچانا 

۱۶….. میوزک اور گانا سننے اور نہ سننا چاہنے والوں کو سنانے کا گناہ ہونا

۱۷….. نماز کے وقت میں زور سے ڈی جے بجانے کی وجہ سے امام کی قرات اور مصلیوں کی نماز میں خلل واقع ہونا

۱۸….. کئ دن تک دھوپ میں پتنگ اڑانے کی وجہ سے جسمانی رنگ اور آنکھوں کی روشنی پر اثر پڑنا 

۱۹….. غیروں کی مشابھت ہونے کی وجہ سے قیامت کے دن انہی کے ساتھ حشر ہونا اور انہی میں سے شمار ہونا

۲۰….. پتنگ لوٹنے کا گناہ 

۲۱….. اسکی ڈوری توڑ کر چرانے کا گناہ 

۲۲.. ایسے فضول کام جس ميں دنیا و آخرت کا کوئ نفع نہیں قیمتی وقت ضائع کرنا 

۲۳….. غیروں کے اس تہوار کو اچھا سمجھنے اور ان گناہوں پر خوش ہونے کی وجہ سے ایمان کے برباد ہوجانے اور کافر ہو جانے کا خطرہ

۲۴….. موت کا کوئ وقت متعین نہیں غیروں کا تہوار اور ان کے تمام گناہوں کو کرتے کرتے اچانک موت آگی تو خاتمہ برا ہو جانا 

  

*اس میسج کو خوب فارورڈ کرے اپنے گھر والوں کو سناے اور پتنگ کی لعنت سے خود بچیں اپنے بچوں کو خاص بچایں بچپن ہی سے اسسے نفرت دلاے,,*  

واللہ اعلم بالصواب 

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی 

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند 

 کلینڈر 

۲۔۔۔۔۔جمادی الاول 

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

پتنگ بازی اور اسکے متعلقہ سامان کی تجارت کرنے کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے؟

  جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

پتنگ کے متعلق سامان کی تجارت کا حکم یہ ہے کہ یہ تجارت… اعانت علی المعصیت… یعنی گناہ پر مدد کی وجہ سے ناجائز ہے

 فتاوی محمود یہ ۱۶/۱۳۴

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

١۔۔۔۔۔جمادی الاول

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

میری کرسمس… یہ انگریزی جملہ ہے جسکے معنی بعض لوگ بتلاتے ہیں کہ

مبارک ہو خدا کو بیٹا ہوا ہے….. ( نعوذباللہ)

کیا یہ انگریزی جملہ کہنے والا کافر ہو جائیگا؟

 جواب

حامداومصلیاومسلما

میری…. معنی خوشی

کریسٹ… معنی عیسی مسیح علیہ السلام

ماس…. معنی جمع ہونا

پورا ترجمہ ہوا

عیسی علیہ السلام کی خوشی یعنی انکی ولادت کی خوشی میں جمع ہونا…..

سوال میں جو مذکور ہے وہ ترجمہ صحیح نہیں ہے

لیکن

اس جملے سے انکا مقصد وہی ہو سکتا ہے جو کہ انکا اصل عقیدہ ہی ہے

پس لفظی ترجمہ میں خرابی نہ ہونے کی وجہ سے بولنے والا کافر یا مشرک تو نہیں ہوگا لیکن کفر کا مفہوم پوشیدہ ہونے کا اندیشہ ہونے کی وجہ سے ایسا کہنے سے گریز کرنا چاہیے

اور یہ انکا مذہبی جملہ ہونے کی وجہ سے مشابہت کی وجہ سے بولنے والا گنہگار ہوگا

 مالا بد منہ…. سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

١٧۔۔۔۔۔ ربیع الاخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

عیسائیوں کا تہوار قریب آرہا ہے اور اسکولوں میں جلسے منعقد کۓ جاتے ہیں جس میں مسلم بچے بھی عیسائیوں کے ایک خاص کردار سانٹاکلوز کا روپ بناتے ہیں اور بہت سے لوگ اس کردار کی مخصوص ٹوپی پہنتے ہیں ,ایسا کرنا اسلامی نقطہ نظر سے کیسا ہے؟

 جواب

حامدا و مصلیا ومسلما

شریعت اسلامی میں غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت ہے

حدیث پاک میں ہے کہ.. مفہوم… جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ روز محشر انہی کے ساتھ اٹھایا جائیگا

کریسمس نامی تہوار عیسائیوں کا تہوار ہے اور سانٹاکلوز نامی کردار کا روپ دھارنا یہ انکا مذہبی عمل ہے لہذا ایسا بننے کی کسی مسلمان بچے کو بھی شرعا اجازت نہیں ہوگی اس سے انکا مذہبی اثر بھی بچوں کی طبیعت پر پڑتا ہے اور انکی تربیت خراب ہوتی جن سارے نقصانات کا گناہ والدین کو ہوگا ایسی چیزوں سے اپنے بچوں کو بچاۓ

 مجمع الزوائد ۵/۱۶۹ سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

١٧۔۔۔۔۔ ربیع الاخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

ہم سے کاروباری وغیرہ تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھائی دیوالی کی مٹھائی وغیرہ کھانے کی چیزیں تہوار کے موقع پر بھیجتے ہیں اسکے لینے اور کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

حامداومصلیاومسلما

ان چیزوں کا نہ لینا بہتر ہے اگر کسی مصلحت کی وجہ سے لے لی ہو تو اس کے کھانے کو شرعا حرام نہیں کہا جائیگا

فتاوی محمودیہ ۱۸/۳۳

بحوالہ

شامی کتاب الکراہت ۶/۷۵۵

نوٹ… دینے والی کی مکمل یا اکثر کمائ حرام نہ ہو اور یہ چیزیں چڑھاوے وغیرہ کی نہ ہو

واللہ اعلم بالصواب

عمران اسماعیل میمن حنفی استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 

ہمارے والد صاحب دکان پر دیوالی کے دئے لائٹنگ، اگن کے رنگ پوجا کی گھنٹیاں سندور بھیجتے ہیں کہ یہ چیزیں بیچنا جائز ہے؟ کیا ان کی کمائی حلال ہے؟

:جواب حامدا و مصلیا و مسلما

ان تمام چیزوں کا جائز استعمال بھی ہے ہر یہ چیزیں اور کاموں میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں، لہذا اس کے ناجائز استعمال کی ذمہ داری بیچنے والے پر نہیں ہیں بلکہ استعمال کرنے والے پر ہے لہذا ان چیزوں کا بیچنا جائز اور آمدنی حلال ہوگی،

فتاوی قاسمیہ جلد ۲۹ صفہ ۳۲۴ سے ۳۲۷ باحوالہ شامی اور عشبہ سے ماخوذ

تنبیہ:-

البتہ دیوالی کے موقع پر ان چیزوں کے بیچنے سے بچنا بہتر ہے،

کتاب النوازل ۱۰/۲۲۷ ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔صفر المظفر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

:جواب: حامدا ومصلیا و مسلما

پٹاخے پھوڑنے میں دسیوں ناجائز کام وجود میں آتے ہیں اور اس میں سیکڑوں دنیاوی نقصانات ہیں جن میں سے کچھ حسب ذیل ہیں

۱…  کانوں کے پردے بار بار تیز آواز سے کمزور ہوتے ہیں

۲… اسکی روشنی سے آنکھیں کمزور ہوتی ہیں

۳… بارود آلود ہوا اور غبار حلق میں جانے سے حلق اور پھیپھڑوں کو نقصان ہوتا ہے

۴… اپنے اور دوسروں کے جان مال کے نقصان کا خطرہ

۵… اپنے ہاتھ پیر منہ جل جانے کا خطرہ بلکہ مشاہدہ

۶… اڑنے والے پٹاخوں کی وجہ سے گھروں میں اور خاص کر غریبوں کے کچے جھونپڑوں میں آگ لگ جانے کا خطرہ بلکہ مشاہدہ

۷… ہوا کا ماحول خراب کرنا

۸… راستوں میں کچروں کی بہتات

۹… کروڑوں روپیوں کی بربادی فضول خرچی

۱۰… بوڑھے بیمار اور بچوں کا آواز سے ڈر جانا

۱۱… سونے والوں کو نیند میں خلل ڈالنا

۱۲… ہسپتالوں کے قریب پھوٹنے کی وجہ سے مریضوں خاص کر زچہ بچہ کو تکلیف کا باعث ہونا

۱۳… درختوں کے قریب پھوٹنے سے پرندوں کا بہرا ہو جانا

۱۴… پرندوں کے بچوں کا مر جانا

۱۵… کاغذ جو کہ حصول علم کا ذریعہ ہے اسکی بیادبی اور اسکا جلا دینا یہانتک کہ بعض مواقع پر دینی کاغذات حتی کہ قرآن کے اوراق بھی پٹاخوں میں مل جاتے ہیں جو کہ شدید بیادبی ہے

۱۶… غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت جسکی نتیجے میں انکے ساتھ حشر ہونے کا خطرہ

اصلاح الرسوم ۱۶/۱۸

مع اضافہ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔صفر المظفر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری

 

:جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

نوراتری ہندوؤں کا مذہبی تہوار ہے جس میں وہ امبا دیوی کی مورتی یا تصویر کے طواف لگا کر اسکی پوجا کرتے ہیں اس میں شرکت کرنا غیر اللہ کو پوجنے کے برابر گناہ ہے، جو کفر و سخت ترین گناہ ہے،

کعبہ شریف کے علاوہ کسی بھی چیز کا طواف کرنا جائز نہیں ہے، کفر کے علاوہ میوزک گانا گانا یا سننا بدنگاہی، غیروں کے ساتھ تعلقات وغیرہ کئی گناہ میں مبتلا ہونے کا ذریعہ ہے، لہذا اس میں شرکت ایمان برباد کرنا و حرام ہے،

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند