(٢،١) مسلم خواتین کا احتجاجی جلسہ اور ریلی نکالنا. (٣) مسلم خواتین کا اجتماعی ختم اور اجتماعی دعاء کرنا. (٤) سیکولر ملک کی قانون کی حفاظت شرعی فریضہ ہے؟ (٥) آئین کی حفاظت کس طرح کی جائے؟

السلام علیکم مفتی صاحب! ملک کے موجودہ حالات میں اپنی شہریت اور ملکی دستور کی حفاظت سے متعلق چند سوالات کے شریعت کی روشنی میں جوابات مطلوب ہیں۔امید کہ آپ جوابات دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
(١) مسلم خواتین کی احتجاجی ریلی نکالنا کیسا ہے؟
(٢) مسلم خواتین کا احتجاجی جلسہ کرنا کیسا ہے؟
(٣) مسلم خواتین کو شہر کے مختلف علاقوں میں جمع کر کے آیت کریمہ اور سورہ یس وغیرہ کا ذکر کر کے اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے؟
(٤) کیا سیکولر ملک کے قانون کی حفاظت شرعی مسٔلہ ہے؟
(٥) اگر سیکولر ملک میں سیکولرازم اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف حکومت کوئی قانون بناتی ہے تو کیا کرنا چاہیے؟
اشفاق احمد.

الجواب:حامداومصلیاومسلما :-(٢،١) اللہ تبارک وتعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں،(وقرن فی بیوتکن)،
قرآن کریم کی اس آیت نے ایک عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ عورت کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے، اورمسلسل ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد میں خلل انداز ہوں اس کے اصل مقصد زندگی کے خلاف ہیں.
البتہ اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ عورت کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں، بل کہ ضرورت دینیہ و دنیویہ کے لئے گھر سے نکل سکتی ہیں، جیسے حج، عمرہ،علاج ومعالجہ، نیز قرابت داروں سے ملنے کے لئے اور ضرورت کے وقت شرعی حدود میں رہتے ہوئے روزی روٹی کمانے کے لئے بھی نکل سکتی ہیں.
ہندوستان میں جو نیا قانون لایا گیا ہے اور مزید لانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ بالکل سیاہ قانون ہے جو مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں اجنبی اور نمبر دو کا شہری بنانے کے لئے ہے، بل کہ یہ کہا جائے کہ یہ مسلمانوں کو غیر ملکی ثابت کرنے کی بھرپورکوشش ہے.
اس سیاہ قانون کو رد کروانے کے لئے جتنی بھی کوششیں ہوسکتی ہیں کرنی چاہئے، جسمیں قانونی چارہ جوئی کے ساتھ سب سے مؤثر جو طریقہ ہے وہ پرامن احتجاج ہے، جسکا فائدہ کھل کر نظر بھی آرہا ہے،کہ حکومت اس کالے قانون پر صفائی اور اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو گئ ہے.
نیزجمہوریت میں سرگنےجاتےہیں،لہذا جو احتجاج عورتوں کے لئے مخصوص ہوں، جہاں فتنہ کا کوئی خوف نہ ہوتو شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے عورتوں کو احتجاج میں حصہ لینےکی بالکل اجازت ہوگی جیسا کہ جہاد وغیرہ میں مجاہدین کی مرہم پٹی کے لئے نکلنے کی اجازت ہے،اسی طرح روزی روٹی اور علاج ومعالجہ کے لئے نکلنے کی اجازت ہے.
بل کہ یہ کہا جائے کہ مذکورہ تمام چیزوں سے زیادہ اپنا دینی تشخص اور اپنے آپ کو ملک کا شہری ثابت کرناضروری اور اہم ہے.
{وقرن في بیوتکنّ.. } ففیہ أمر النساء بالقرار في البیوت ، والنہي عن الخروج متبرّجات بزینۃ علی وتیرۃ الجاہلیۃ الأولی فعلم أن حکم الآیۃ قرارہنّ في البیوت إلا لمواضع الضرورۃ الدینیۃ ، کالحجۃ والعمرۃ بالنص أو الدنیویۃ ، کعیادۃ قرابتہا وزیارتہا ، أو احتیاج إلی النفقۃ ۔
(احکام القرآن للتھانوی ۳/۳۱۷ – ۳۱۹).
قال تعالیٰ: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ} [الممتحنۃ: ۸].
لا يعجبنا أن يقاتل النساء مع الرجال في الحرب (شرح السير الكبير للسرخسي ١٨٤/١ باب قتال النساء مع الرجال و شهودهن الحرب)

(٣) گنجائش ہے، بہتر ہے کہ ختم وغیرہ کا عمل اہنے اہنے گھروں میں کریں.
(٤) آئین کی وہ دفعات جس کا فائدہ کسی بھی طرح اقلیتوں کوپہونچتا ہوں، یا وہ دفعات اقلیتوں کو نقصان سے بچانے کے لئے ہوں،تو حتی المقدور قانون کےدائرہ میں رہ کر ان کی حفاظت ہمارے ذمےشرعا لازم ہے.
جس طرح اپنی جسمانی و مالی حفاظت لازم ہے اسی طرح مفادات کی حفاظت نیز اپنے آپ کو نقصان سے بچانابھی لازم ہے.
(٥) قانونی چارہ جوئی اور پرامن احتجاج کے ذریعہ اپنی بات ضرور رکھنی چاہئے. فقط واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم.
کتبہ: مفتی جنید بن محمد پالنپوری
دارالافتاءوالإرشاد ،مجلس البرکہ (کولابہ،ممبئی)
مورخہ ١٢ جمادی الاول ١٤٤١ ہجری