۱۹۴۵ ۱۱ ویں کی نیاز

۱۱ ویں کی نیاز کی کیا حقیقت ہے؟ کیا مالدار صاحب نصاب شخص ۱۱ ویں کی نیاز کھا سکتا ہے؟
غیر مسلموں کو اس دعوت میں شریک کرنا کیسا ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

کسی بھی اسلامی مہینے کی ۱۱ ویں تاریخ کو حضرت محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کو ثواب پہنچانے کی نیت سے جو کھانا پکایا جاتا ہے اسکو نیاز کہتے ہیں
اختلاف امت اور صراط مستقیم…..

اگر وہ کھانا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کے نام کی منت کا ہے تو وہ حرام ہے کیونکہ اللہ کے سوا کسی کے نام کی منت ماننا حرام اور شرک ہے……….

اگر ایسی منت نہیں ہے بلکہ اللہ کے نام کی منت ہے تب مالدار صاحب نصاب شخص کے لئے اسکا کھانا جائز نہیں ہے
شامی ۲/۱۲۸
بحر ۲/۲۹۸

اگر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کے ایصال ثواب کی نیت سے اللہ کے نام کی منت مانی تھی
مثلا اللہ کے نام پر کھانا پکوا کر کھلاؤونگا اور اسکا ثواب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کو پہنچاؤونگا
تو ایسا کھانا بھی مالدار صاحب نصاب شخص نہیں کھا سکتا بلکہ یہ صدقہ کا کھانا ہے اور اسکو غریبوں کو کھلانا ضروری ہے
البتہ ایصال ثواب کے لئے اس طرح سے کوی دن متعین کرنا جسکا کوئ ثبوت قرآن و سنت سے نہ ہو یہ بدعت ہے
شامی ۱
فتاوی محمودیہ ۱۰/۹۸
زبذة الفتاوی ۱/۲۰۶ ۲۰۷

واللہ اعلم بالصواب

ماخوذ از فتاوی سیکشن

مفتی سراج سداد چکلی نوساری گجرات

تصدیق و اضافہ
مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی عفی عنہ

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

۱۹۲۸ میک ڈونالڈ، کے ایف سی وغیرہ ہوٹل میں کھانا

جواب

حامدا ومصلیا ومسلما

ان ہوٹلس میں پکایا جانے والا چکن یا گوشت اگر واقعتا اسلامی شریعت کے مطابق ذبیحہ کا ہو
اسی طرح مختلف چیزوں میں ڈالی جانے چیز اور کھانا پکانے کے تیل وغیرہ میں کسی قسم کے حرام اجزاء کی آمیزش نہ کی گئی ہو اور یہ امور یقینی کے طور پر یا غالب گمان کے درجہ میں ثابت ہو جائے تب تو ان سے تیار کئے گئے کھانے کھانے کی اجازت ہے ورنہ تو ان سے احتراز ہی کیا جائے ۔

جبکہ عمومی طور پر بھی یہ ہوٹلس اپنے عالمی معیار برقرار رکھنے کا زیادہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ مشینی ذبیحہ سے بھی احتراز نہیں کرتے اس لئے ان میں تیار کئے جانے والے کھانے کے تمام اجزاء کے حلال ہونے کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک انکے کھانے سے احتراز ہی کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔

وفي القرآن الكريم
لا تاكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه وانه لفسق…….سورة الأنعام 121اية
وفيه …انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به …سورة النحل آية 115
وفي صحيح المسلم عن نعمان بن بشير رضي الله عنه يقول سمعت رسول الله صلي الله عليه و سلم قوله …ان الحلال بين و ان الحرام بين و بينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس الخ

حضرت مفتی حسین جامعہ بنوریہ ٹاؤن
کرانچی

نوٹ۔آگر غیرمسلم۔ہوٹل۔کے لیٹر پیڈ پرمسلم مفتی کے دستخط ہو یا اس غیر مسلم ہوٹل کا مسلم ملازم گواہی دے تو بھی ان کی بات کا شرعا اعتبار نہیں ہوگا

✏ مفتی محمد فرحان وارث دار الافتی بنوریہ ٹاؤن کرانچی

تصدیق: مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورہ سورت گجرات ھند

۱۹۱۰ میلاد کی نیاز کا حکم؟

جواب

حامدا ومصلیا و مسلما

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعین بارہ ۱۲ کی تاریخ طے کرنے کے ساتھ کھانا پکانا لوگوں کو جمع کرنا وغیرہ گمراہ کرنے والی بدعت ہے اس سے بچنا ضروری ہے اور اگر کھانے میں نیت ایصال ثواب کی ہے تو کھانا مباح و صدقہ ہے،

اگر اکابریں کے نام پر ہے ان کو راضی کرنے ان سے قریب ہونے کی نیت ہو، اللہ کے نام پر نہ ہوا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی صورت میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں، اور ایسی عقائد فاسد اور کفر کے باعث ہے،

جائز صورت

ایصال ثواب اگر دن اور خاص کھانے کو طے کئے بغیر صرف اللہ کو راضی کرنے کیلئے ہو تو مستحب ہے، ایصال ثواب کا کھانا صرف غریب کھائیں مالداروں کو کھانا منع ہے،

ملفوظات جلد نمبر ۳ سے ماخوذ مولانا احمد رضا اگر دن اور کھانے کو خاص کرنے کے ساتھ ہو تو بدعت ہے

فتاوی رشیدیہ ۱۳۸
فتاوی محمودیہ ۱۵/۴۲۹

ایسے موقعوں میں اس طرح کی کھانے پکانے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں،لہذا یہ کام ناجائز اور بدعت ہے, اگر محض رسم کے طور پر پکایا جائے ثواب کا عقیدہ نہ ہو تو بھی اس میں بدعت کی تائید اور رواج دینا ہے، لہذا اس سے بچنا لازم ہے اسی بنا پر کھانا قبول کرنے سے بھی بچنا چاہیے اس کے باوجود یہ حرام نہیں ہے،

احسن الفتاوی ۱/۳۷۵ بائے شیخ الحدیث مولانا احمد راحیل صاحب دامت برکاتہم مدرسہ کنز مرغوب پٹھان

جواز پر اکابرین عبارات سے دلیل پکڑنے کا جواب:-

شاہ عبدالرحیم دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ولادت کے دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایصال ثواب پہنچانے کی نیت سے کھانا پکواتا تھا،

ایک بار ایسا ہوا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا کہ میں کھانا پکواتا بھنے ہوئے چنوں کے علاوہ تو میں نے اسی کو لوگوں میں تقسیم کردیا،

ان جیسے بزرگوں کی عبارتوں میں نہ ولادت کی حد سے زیادہ روشنی کا تذکرہ ہے نہ کھانے کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کا ذکر نہ ۱۲ تاریخ کا ذکر ہے بلکہ لکھا ہے مولود یعنی ولادت کے دنوں میں نہ زبردستی کا چندہ ہے نہ شریک نہ ہونے والوں کو حقیر سمجھنا ہے نہ منڈپ تھا نہ راستہ بند کرکے آنے جانے والوں کو تکلیف پہنچانا ہے، لہذا اس سے دلیل پکڑنا صحیح نہیں،

فتاویٰ رشیدیہ ۱۳۷

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ربیع اوّل

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٥٦٥ شادی میں دولہا چپل چھپانا اور کولڈ ڈرنک پلانا؟

نکاح کے بعد سالہ یا سالی اپنے بہنوئی کے جوتے چپل چھپا دیتے ہیں اور اس کے عوض میں پیسے مانگتے ہے اسی طرح برادر نسبتی اپنے بہنوئی  کولڈ ڈرنک یا مٹھائی کھلاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں پیسے مانگتے ہیں ایسے پیسے لینے دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب 

حامدا و مصلیا و مسلما 

یہ دونوں کام صرف رسم ہے جس سے بچنا چاہیے دینے والے کی ناراضگی کے باوجود اس سے پیسے نکلوانا شرعاً جائز نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں,

مشکات

منگنی شادی کے مسائل کا حل صفہ ٤٥

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر 

۲٤۔۔۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول 

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری