۱۹۶۳ دولہے کا کنگنا باندھنا؟

جواب

حامدا ومصلیا ومسلما

علامہ قطب الدین دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافع المومنین میں لکھا ہے کہ ایک قوم کی تاہم رسم ہے کی تھوڑی سی سرسوں اور اسپند ( ایک قسم کا بیچ ) کپڑے میں باندھتے ہیں اس کو کنگنا کہتے ہیں اس کو دولہے کے ہاتھ میں باندھتے ہیں یہ صاف بات ہے کہ اس کو پہننا والا اور اس کو پسند کرنے والا کافر ہوجاتا ہے،

تحفۃ الزوجین صفحہ- ۲۳

اس کتاب کے حاشیہ میں لکھا گیا ہے کہ یہ کُفر کے شعار ( خاص نشانی) میں سے ہے جیسے کے ہندوؤں کی زنّار (جنوی) ہوتی ہے ہندوؤں سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اسکا حکم اُنکے شاشترا (مذہبی کتابخانہ میں ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ بعض صورت میں شادی کے سات پہروں قائم مقام ہے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کی گنتی انہیں کے ساتھ ہوگی لہٰذا جہاں یہ رسم پائی جارہی ہے اسے ختم کرنا بہت ضروری ہے،

 بہشتی جہیز صفحہ ۷۵ سے ماخوذ

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمادی الاول

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری

۱۹۱۸ نکاح کے آداب

جواب

حامدا و مصلیا مسلما

نکاح کے آداب اور رہنمائی نیچے لکھے جاتے ہے۔

۱. اچھی نیت (نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت اور نیک اولاد پیدا ہونے کی نیت) سے نکاح کرنا۔

۲.شادی کرنا میں جلدی کرنا۔

۳. نان و نفقہ۔بیوی کا، روٹی ، کپڑا ، مکان کے انتظام کی طاقت ہو تو نکاح کرنا۔

۴. عورت کا اپنے ولی قریبی رشتہ دار کے ذریعے پیغام بھیجنا۔

۵ .دوسرے کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجنا۔

۶. عورت کا اپنی شوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرنا۔

۷.شادی سے پہلے جس سے نکاح کا ارادہ ہو اسے ایک نظر دیکھ لینا۔

۸.شادی سے پہلے عورت کی رائے معلوم کرنا۔

۹.مرد و عورت کا دل ایک دوسرے کی طرف مائل ہو (اور کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو)تو انکا آپس میں نکاح کرا دینا۔

۱۰. دیندار اور اچھے اخلاق والی شریکِ حیات کو پسند کرنا۔

۱۱. کفو (یعنی نسب ، دین ، ​​مال ، ڈھنڈے میں برابری) کا خیال رکھنا، (تاک میجاز ، طور و طریق ملے تو جھگڑے پیدا نہ ہو )

۱۲ زیادہ جننے والی عورت کو تلاش کرنا۔

بقیہ کل انشاء اللہ تعالیٰ

سنن و آداب صفحہ نمبر۳۳۷

و اللہ اعلم بالصواب

21 اسلامی تاریخ
ربیع الاول ۱۴۴۱ ہجری

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی
استاد دارالعلوم رام پورہ و سکریٹری جمعیت علماء سورت ، گجرات ، ہندوستان۔

علمی بات ( میسیج) سکھانا (پھیلانا )عبادت سے بہتر ہے

١۹۱۷ شادی میں دولہے کی چپل چھپانا اور کولڈرنک پلانا؟

نکاح کے بعد سالہ یا سالی اپنے بہنوئی کے جوتے چپل چھپا دیتے ہیں اور اس کے عوض میں پیسے مانگتے ہے اسی طرح برادر نسبتی اپنے بہنوئی کولڈ ڈرنک یا مٹھائی کھلاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں پیسے مانگتے ہیں ایسے پیسے لینے دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

یہ دونوں کام صرف رسم ہے جس سے بچنا چاہیے دینے والے کی ناراضگی کے باوجود اس سے پیسے نکلوانا شرعاً جائز نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں,

مشکات

منگنی شادی کے مسائل کا حل صفہ ٤٥

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر  ۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔ھجری

۱۹۰۷ ماں باپ کے رشتے سے اطمینان نہ ہو تو

جواب

والدین سے زیادہ مہربان اور خیرخواہ کوئی ہو نہیں سکتا ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ اس بارے میں ماں باپ کی بات مان لی جائے ، اسی میں عافیت (دنیا آخرت کی بھلائی) ہے۔

درسی سوال۔ جواب صفحہ ۲۴۶

واللہ اعلم باالصواب

ہجری تاریخ

۹/ ربیع الاول ۱۴۴۱ ہجری۔

مفتی عمران اسماعیل میمن
استاد دارالعلوم رام پورہ سورت ، گجرات ، ہندوستان۔

١٥٧٤ زوال کے وقت نکاح؟

واب

 حامدا و مصلیا و مسلما

زوال یا کسی بھی مکروہ وقت میں نکاح جائز ہے مکروہ نہیں,

عالمگیری شرائط نکاح سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

٤… ربیع الاخر

۱۴۴۰ ..ھجری

١٥٧٣ ولیمے میں کیا کھلانا سنت ہے؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ہم کو حکم ہے اور آپ کے طریقے ہمارے لیے نمونہ ہیں تو مجھے یہ جاننا ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے ولیمے کیا کھلایا؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

بہت اچھا سوال ہے لوگوں نے ولیمہ کرنے کی سنت کے نام پر شاندر ولیمہ کرنے اور زیادہ لوگوں کو کھلانے کے چکر میں نکاح میں تاخیر سودی قرض کھانے کا بگاڑ ولیمے میں فخر اور کمپیٹیشن شروع کر دی ہے لیکن ولیمے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنکی اتباع کا ہم کو حکم دیا ہے ان کی سادگی اور  مختصر ولیمے میں کم خرچ کر کے نکاح کو بابرکت بنانا بھول گئے ہیں, لہذا جن اسواج مطہرات کی ولیمے کی صراحت کتابوں میں ملی اسے پیش کیا جاتا ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ایک بکری کے گوشت سے کیا,

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ جو کی روٹی سے کیا,

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کھجور, روٹی اور گھی سے کیا,

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ایک پیالہ دودھ سے کیا,

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرنے والے اس سنت پر یا ایسا سادہ اور مختصر ولیمہ کرکے دکھائیں,

 بہشتی جہیز صفہ ١٤٦ با اضافہ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

٣۔ربیع الاخر

۱۴۴۰۔۔ھجری

١٥٧۲ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جہیز کی حقیقت؟

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو جہیز دیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے لیا تھا اس کی کیا حقیقت ہے اس سے تو جہیز کا ثبوت مل رہا ہے؟

: جواب 

حامدا و مصلیا و مسلما

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ابو طالب نہایت غریب تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ کو پرورش کے لئے مانگ لیا تھا ان کے پاس شادی کے بعد بیوی کے ساتھ الگ رہنے کے لیے گھر کی بنیادی ضرورت کا گھریلو سامان بھی نہ تھا اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انتظام کیا, وہ بھی صرف اپنی بیٹی فاطمہ کو ہی جہیز دیا اس کے علاوہ کسی بھی بیٹی کو جہیز نہیں دیا,

آج کل بھی کوئی ایسا دولہ ہو جس کے پاس بیوی کے ساتھ الگ  رہنے کے لیے  ضروری سامان کا انتظام نہ ہو تو وہ بھی جہیز لے سکتا ہے لیکن مانگنے کا حق نہیں,

گھریلو سامان گھر کا انتظام یے دولہ یا اس کے گھر والوں کی ذمہ داری ہے, بیوی کے گھر والوں کی ذمہ داری نہیں,

 بہشتی جہیز صفہ ١۲۲ سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر

۲۔۔۔۔۔ ربیع الاخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٥٦۹ اولاد کی شادی کب کرنا چاہتے

کیا یہ بات صحیح ہے کہ اولاد بالغ ہو جائے پھر باپ انکی جلد شادی نہ کرے اس درمیان اولاد خود زنا میں مبتلا ہو جائے تو بھی اس کا ذمہ دار اسکا باپ ہی ہوگا؟؟؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

جی یہ بات حدیث سے ثابت ہے ایک شرط کے اضافے کے ساتھ

پوری حدیث درج ذیل ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں لڑکا پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اسے نیک آداب سکھائے یعنی شریعت کے احکام اور زندگی کے اسلامی طریقے سکھائے تاکہ وہ دنیا و آخرت میں کامیاب اور سر بلند ہو, پھر وہ بالغ ہو جائے تو اسکا نکاح کردے,اگر لڑکا بالغ ہو( اور شادی کے خرچ پر وہ خود قدرت نہ رکھتا ہو ) اور اسکا باپ (اسکا سادگی سے نکاح کے خرچ پر قدرت رکھتا ہو ) اور لڑکے کا نکاح نہ کرے اور ایسے میں وہ لڑکا زنا میں مبتلا ہو جائے تو اسکا گناہ باپ پر ہوگا,

? مشکوة ۲/۲۷۱

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تورات میں لکھا ہے کہ جس شخص کی لڑکی کی عمر ۱۲ سال ہو جائے یعنی بالغ ہو جائے (اور وہ جوڑ کا رشتہ ملنے کے باوجود اسکا نکاح نہ کرے

پھر وہ لڑکی برائ یعنی بدکاری میں مبتلا ہو جائے تو اسکا گناہ اسکے باپ پر ہوگا

مشکوۂ ۲/۲۷۲

آج کل انٹرنیٹ کے دور میں اولاد کو پاک دامن رکھنا باپ کی ذمہ زیادہ ضروری ہے لہذا باپ کو چاہیے کہ سادگی سے ہی صحیح اولاد کا جلدی نکاح کرا دے

ازدواجی زندگی کے شرعی مسائل اور انکا حل… صفحہ ۳۹/۴۰

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول

  1. ۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٥٦٧ ولیمہ کتنے آدمیوں کو کھلایا جائے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

شریعت کی طرف سے اس کی کوئی تعداد متعین نہیں ہے, ہر آدمی اپنی خوشی سے اپنی حیثیت اور گنجائش کے مطابق جتنے لوگوں کو چاہے ولیمہ کھلا دے,حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ (جو اتنے مالدار صحابی ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کی وراثت کو سونا کلہاڑی سے توڑ توڑ کر تقسیم کیا گیا) ان کے نکاح کے موقع پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کا حکم گنجائش کے مطابق ہے,

فتاوی قاسمیہ ١۲/٥٧۲

صرف بلکل قریبی رشتے کے چند آدمیوں کو بھی ولیمہ کی نیت سے کھلائیں تو بھی ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۲٦۔۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٥٦٦ رخصتی سے پہلے ولیمہ, اور ولیمہ کی مدت ؟

ا, نکاح ہونے کے بعد فورا رخصتی یا تنہائی سے پہلے کھانے کی دعوت کھلانے سے ولیمے کی سنت ادا ہوگی یا نہیں ؟

ب, دعوت ولیمہ کی کیا شرائط ہے؟ اس کی حد اور مدت کیا ہے؟

 جواب

حامدا و مصلیا و مسلما 

ا,  بعض کے نزدیک ادا ہو جائے گی,

 فتاویٰ رحیمیہ ۸/۲٣۹

شرح شرعتہ الاسلام میں ہے 

وکذا الولیمۃ سنۃ الخ واختلفوا ایضاً فی وقت الولیمۃ قال بعضہم بعد الدخول بہا وقال بعضہم عند العقد وقال بعضہم عندہما جمیعاً الخ 

 شرح شرعۃ الاسلام صفہ ۴۴۷ -۱۲ ظفیر

اس کاحاصل یہ ہے کہ بعض نے فرمایا کہ نکاح کے وقت ہے اور بعض نے فرمایا کہ دونوں وقتوں میں سے جس وقت چاہے کردے الغرض خواہ نکاح کے بعد ولیمہ کرے یا رخصت کے بعد کرے‘ سنت ولیمہ حاصل ہوجاوے گی,

ب,  دعوت ولیمہ شادی اور رخصتی سے تین روز تک ہوتی ہے اس کے بعد نہیں, 

 فتاوی محمودیہ ١۲/١٤١ باحوالہ 

 عالمگیری ٥/٣٤٣

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

۲٥.ربیع الاول ۱۴۴۰۔۔ھجری

١٥٦٥ شادی میں دولہا چپل چھپانا اور کولڈ ڈرنک پلانا؟

نکاح کے بعد سالہ یا سالی اپنے بہنوئی کے جوتے چپل چھپا دیتے ہیں اور اس کے عوض میں پیسے مانگتے ہے اسی طرح برادر نسبتی اپنے بہنوئی  کولڈ ڈرنک یا مٹھائی کھلاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں پیسے مانگتے ہیں ایسے پیسے لینے دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب 

حامدا و مصلیا و مسلما 

یہ دونوں کام صرف رسم ہے جس سے بچنا چاہیے دینے والے کی ناراضگی کے باوجود اس سے پیسے نکلوانا شرعاً جائز نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں,

مشکات

منگنی شادی کے مسائل کا حل صفہ ٤٥

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

 کلینڈر 

۲٤۔۔۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول 

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٥٦٤ دولہا کا کھڑے ہو کر سلام کرنا

 جواب

حامدا و مصلیا و مسلما 

نکاح کے بعد دولہے کا کھڑے ہو کر سلام کرنا ثابت نہیں صرف ایک رواج ہے جو قابل ترک ہے,

منگنی شادی کے متعلق پیش آنے والے مسائل کا حل صفہ ٤٤

واللہ اعلم بالصواب

 مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی استاذ دار العلوم رام پورا گجرات ھند

١٥٦٣ نکاح میں تاخیر کے بہانے

ہمارے معاشرے میں لڑکا شادی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور اس کی ایک بہن بھی شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے لڑکے کو اس کے مناسب لڑکی سے منگنی ہو چکی ہے اور بہن کا رشتہ باقی ہے تو لڑکے کے نکاح میں اس وجہ سے دیر کی جاتی ہے کہ ابھی بہن کا نکاح نہیں ہوا ہے پہلے بہن کا نکاح ہونا چاہیے پھر بھائی کا, قریب عمر کی بہن ہوتے ہوئے بھائی کا نکاح پہلے lکرنے کو عیب سمجھا جاتا ہے کیا شریعت میں اس کی کوئی حقیقت ہے؟

ب, ایک مرتبہ بہن کا اچھا رشتہ آیا بھی تھا تو یوں کہہ کر انکار کر دیا بہن کو لڑکا پسند نہیں آیا تو اچھے رشتے مال یا صورت کی بنیاد پر ٹھکرانا کیسا ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی تین چیزوں میں جلدی کرو 

١,نماز جب اس کا وقت ہوجائے, 

۲, جنازہ جب آجائے,

٣, بے نگاہی شخص مرد یا عورت جب اس کا جوڑا مل جائے,

لڑکے کی مالی حیثیت اتنی ہے کی مہر ادا کرکے عورت کا نان و نفقہ برداشت کر سکتا ہے اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہونے کا یقین ہے تو ایسی صورت میں نکاح کرنا واجب اور ضروری ہے,

پہلے بہن پھر بھائی ایسی ترتیب شریعت سے ثابت نہیں جوڑا مل گیا پھر بھی نکاح ترتیب کے بہانے نہیں کیا اور آجکل کی بے پردگی اور بے حیائی کے ماحول میں لڑکا زنا میں مبتلا ہوا تو ماں باپ بھی گنہگار ہوںنگے,

ب, حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, جب کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام آجائے جس کے اخلاق اور دین سے تم متمعین ہو تو فوراً شادی کر دو ورنہ زمین کے اندر عظیم فتنہ و فساد برپا ہو(جو آجکل زنا, ارتداد اور لڑکا یا لڑکی کے بھاگ جانے کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہا ہے)

 ترمیزی شریف ١/١٤۸

اس حدیث میں اچھے رشتے کا معیار مال, خاندان یا,خوبصورتی کو نہیں بنایا گیا بلکہ دینداری, اچھے اخلاق ہو تو نکاح کا پیغام ٹھکرانا بہت برا اور فتنوں و گناہوں کا سبب قرار دیا گیا ہے,

واللہ اعلم بالصواب

 مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

١٥٦۲ منگیتر کو انگوٹھی پہنانا

آج کل یہ رواج بہت عام ہو گیا ہے کہ لڑکا لڑکی کی منگنی ہوتی ہے تو لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے انگوٹھی پہناتے ہیں پھر اسٹیج پہ دونوں کو کرسی پر اردگرد بیٹھایا جاتا ہے تو شریعت کی روشنی میں ایسا کرنا کیسا ہے ؟

 جواب 

حامدا و مصلیا و مسلما

شریعت میں منگنی ایک معاہدہ ہے اس کے باوجود دونوں اجنبی اور نامحرم ہی شمار ہونگے ایک دوسرے کو دیکھنے کی اور ہاتھ لگانے کی بالکل اجازت نہیں ہے اس میں چند خرابیاں پائی جاتی ہیں

١, انگوٹھی پہنانے میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانا لازم آتا ہے جو بڑی بے حیائی بے غیرتی اور حرام ہے ہاتھوں اور آنکھوں کا کھلا ہوا زنا ہے,

۲,ایک دوسرے کے قریب میں بیٹھیں گے تو لڑکے کو لڑکیاں دیکھیں گی اور لڑکی کو لڑکے دیکھیں گے اس طرح کا مخلوط میل جول کئی خرابیوں اور فتنوں کا سبب ہے,

٣,بعض جگہ لڑکے کو سونے کی انگوٹھی پہنائی جاتی ہے جبکہ مردوں کو سونے کا کوئی بھی زیور پہننا حرام ہے صرف چاندی کی سعدی چار ماشہ یعنی ٤ گرام ٣٧٤ ملی گرام کی انگوٹھی کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں, 

٤, ساس سسرہ کی ناراض ہونے کی فکر کی جاتی ہے اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے اللہ ناراض ہو گیا تو یہ رشتہ ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے گا یا ہونے کے بعد بھی لڑائی جھگڑے ہوں گے برکتیں اور سکون ختم ہو جائگا,

٥, باقاعدہ لوگوں کو جمع کرکے اس طرح منگنی کرنا یے غیرقوم کا طریقہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی کل قیامت کے دن اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا,

لہذا جہاں ایسا طریقہ اپنایا جا رہا ہو تو دیندار لوگوں کو چاہیے کہ اسے روکے اور کرنے والوں کو سمجھائیں لوگوں نے ناجائز کام پر روکنا ٹوکنا چھوڑ دیا ہے اس لئے لوگ غیروں کے طریقوں کو بلاجھجک بلاخوف اختیار کرنا شروع کردیا ہے, اللہ تعالی ہمیں اس سے بچنے اور بچانے کی توفیق عطا فرمائے,

 اسلامی شادی سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی 

? استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

۱۵۰۷ بیوی کے ذمے شوہر کے حقوق؟

بیوی کے زمہ شوہر کے کیا حقوق و آداب ہیں ؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

بیوی کے زمہ شوہر کے جو حقوق  و آداب ہیں وہ حسب ذیل ہے

۱، بیوی کا اپنے شوہر کے حکم کو ماننا،

۲، شوہر کی خدمت کرنا،

۳، شوہر کے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو داخل نہ کرنا،

۴، شوہر کے مال کو شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں بھی استعمال نہ کرنا، اسی طرح اسراف نہ کرنا،

۵، شوہر کی اجازت کے بغیر اسکی موجودگی میں نفلی روزہ نہ رکھنا،

۶، میاں بیوی کا ایک دوسرے کی  کوتاہی سے چشم پوشی کرنا،

۷، ایک دوسرے کے بری سلوک پر صبر کرنا،

۸، قناعت اختیار کرنا،

۹، شوہر کی نا شکری نہ کرنا،

۱۰، شوہر کی گفتگو کے وقت خاموش رہنا،

۱۱، شوہر کے گھر والوں کا اکرام کرنا،

۱۲، اپنے پڑوسیوں سے کم از کم بات چیت کرنا،

۱۳، اپنے شوہر کے دوستوں کے سامنے اپنی پہچان نہ کر وانا بلکہ جو پہچانتا ہو اسکے سامنے بھی اجنبیت اختیار کرنا،

۱۴، پوری توجّہ اپنی اصلاح، گھر کے انتظام و نماز روزہ کی پابندی کی طرف کرنا،

۱۵، شوہر کے سامنے زیب و زینت کے ساتھ بن سورکر رہنا،

۱۶ اس کو دیکھتے وقت خوشی کا اظہار کرنا،

۱۷، اس سے قریب ہونے کے موقع پر محبت کا اظہار کرنا،

۱۸، بلا عذر، عورت کا صحبت سے انکار نہ کرنا،

۱۹، میاں بیوی کے ملان کی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کرنا،

۲۰، شوہر کے نکلتے وقت دروازے تک ساتھ جانا،

۲۱، عورت کا کسی بڑی وجہ کے بغیر طلاق کا مطالبہ نہ کرنا،

 

سنن آداب صفہ ۲۶۸

باقی کل انشاءالله

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ہند

کلینڈر

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔محرم الحرام

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری