۱۹۶۰ تقدیر پر ایمان کا تقاضہ؟

جواب

حامدا ومصلیا ومسلما

ہر ناپسند چیز اور نقصان سے بچنے کے اسباب اختیار کریں اور نقصان سے بچنے کی پوری کوشش کریں پھر بھی نقصان ہو جائے تو پریشان نہ ہو یوں سمجھیں یہی میرے مقدر میں تھا اللہ ہمارا مالک ہے ہمیں اس کے فیصلے پر راضی رہنا واجب ہیں یہی تقدیر پر ایمان کا تقاضہ ہے،

اسلامی عقائد صفحہ ۳۹

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمادی الاول

۱۴۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١۸۲۸ یاجوج ماجوج کون ہے؟

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

یاجوج ماجوج زبردست انسان ہیں جو دجال کے قتل ہونے کے بعد اللہ انہیں نکالیں گے, جو بڑا فساد مچائیں گے عیسی علیہ السلام کی بددعا سے انکو بیماری ہوگی, جس سے وہ سب ختم ہو جائیں گے,

مسلم شریف حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالی عنہ, کی روایت سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

آج کا کلینڈر

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔ذی الحجہ

١٤٤۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

یاجوج ماجوج کے بارے میں چند اہم فوائد

:یاجوج ماجوج کے بارے میں چند اہم فوائد

یاجوج و ماجوج عام انسانوں کی طرح انسان ہیں ، حضرت نوح ﷣کی اولاد میں سے ہیں ، جمہور محدّثین و مؤرخین ان کو ”یافث ابن نوح علیہ السلام“ کی اولاد قرار دیتے ہیں ۔
یاجوج و ماجوج کی تعداد پوری دنیا کے انسانوں کی تعداد سے بدرجہا زائد ہیں ، کم از کم ایک اور دس کی نسبت سے ہے ۔

یاجوج و ماجوج کی جو قومیں اور قبائل سدِّ ذو القرنین کے ذریعہ اس طرف آنے سےر وک دیے گئے ہیں وہ قیامت کے بالکل قریب تک اسی طرح محصور رہیں گے ، ان کے نکلنے کا مقرّرہ وقت حضرت مہدی کے ظہور اور پھر خروجِ دجّال کے بعد ہے جبکہ حضرت عیسیٰ دجّال کو قتل کرچکے ہوں گے ۔

یاجوج و ماجوج کے کھلنے کے وقت سدِّ ذو القرنین منہدم ہوکر زمین کے برابر ہوجائے گی ۔اس وقت یاجوج و ماجوج کی بے پناہ قومیں بیک وقت پہاڑوں کی بلندیوں سے اترتی ہوئی سرعتِ رفتار کے سبب ایسی معلوم ہوں گی کہ گویا یہ پھسل پھسل کر گر رہے ہیں اور یہ لاتعداد وحشی انسان عام انسانی آبادی اور پوری زمین پر ٹوٹ پڑیں گے اور ان کے قتل و غارتگری کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا ،حضرت عیسیٰؑ بھی اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو لے کر کوہِ طور پر پناہ لیں گے۔

کھانے پینے کا سامان ختم ہوجانے کے بعد ضروریاتِ زندگی انتہائی گراں اور مہنگی ہوجائے گی ، باقی انسانی آبادی کو یہ وحشی قومیں ختم کرڈالیں گی اور ان کے دریاؤں کو چاٹ ڈالیں گی ۔
حضرت عیسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی دعاء سے یہ ٹڈی دَل قسم کی بے شمار قومیں بیک وقت ہلاک کردی جائیں گی، ان کی لاشوں سے ساری زمین بھر جائے گی ،لاشوں سے تعفن اُٹھے گا جس کی وجہ سےزمین پر بسنا مشکل ہوجائے گا ۔

پھر حضرت عیسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی دعاء کی برکت سے ان کی لاشیں دریا برد یا غائب کردی جائیں گی اور پھر ایک عالمگیر بارش کے ذریعہ پوری دنیا کی زمین کو دھوکر پاک کردیا جائے گا۔(ملخص از معارف القرآن عثمانی :5/646)

١۸۲۹ زمین سے نکلنے والا جانور

جواب حامدا و مصلیا و مسلما

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تم پہلی دس نشانیوں کو نہ دیکھ لو جس میں یہ عجیب طرح کی پیدائش کا جانور بھی ہے جو قیامت کی بالکل آخری علامتوں میں سے ہے,

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ اَخْرَجْنَا لَـهُـمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُـمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا لَا يُوْقِنُـوْنَ (۸۲)

ترجمہ:- اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔

ابن کثیر ابوداود طیالسی کہ حوالے سے نقل کیا ہے کہ, یہ جانور مکہ میں صفا پہاڑی اپنے سر پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے نکلے گا اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان پہنچ جائے گا اس کو دیکھ کر لوگ بھاگنے لگیں گے, ایک جماعت ٹھہر جائے گی یہ ان کے چہروں کو ستاروں کی طرح روشن کر دے گا پھر زمین کی طرف نکلے گا ہر کافر کی پیشانی پر کافر ہونے کا نشان لگا دے گا, کوئی اس کی پکڑ سے بھاگ نہ سکے گا, یہ مسلمان اور کافر کو اچھی طرح پہچانے گا,,

معارف القرآن سورہ نمل آیت نمبر ۸۲ کی تفسیر

نوٹ۔ اس جانور کے بارے میں مختلف قسم کے من گھڑت باتیں میسج میں چلتی رہتی ہے کہ اس کا منہ فلاں جانور کی طرح پیر فلاں جانور کی طرح وغیرہ باتیں درست نہیں ہے,,

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

آج کا کلینڈر ۱۹۔۔۔۔۔۔۔ذی الحجہ ١٤٤۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٦٤٧ آسمانی کتابیں اور صحیفے

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے آسمان سے چھوٹی بڑی بہت سی کتاب اپنے نبیوں پر اتاری تاکہ وہ اپنی اپنی امت کو دین کی باتیں بتائیں, ان میں سے چھوٹی کتابوں کو صحیفے اور بڑی کتاب کو اللہ کی کتاب کہتے ہیں,

اسلامی عقائد صفہ ١۲

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

١٦۔۔۔۔۔جمادی الاَخر

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری

١٦۲٦ فرشتوں کی طاقت

جواب

حامدا و مصلیا و مسلما

فرشتوں کی طاقت بہت ہی زیادہ ہوتی ہے اکیلے وہ کام کرلیتے ہیں جو لاکھوں انسان مل کر بھی نہیں کرسکتے,

اسلامی عقائد صفہ ١٥

واللہ اعلم بالصواب

مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی

استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند

کلینڈر

۲٦۔۔۔۔۔جمادی الاول

۱۴۴۰۔۔۔۔۔۔۔ھجری